Media Lens

Media Lens

Share

Media Lens English
https://www.facebook.com/medialens.english

Website
media-lens.com

Twitter / X
twitter.com/medialense

Instagram
instagram.com/medialens.insta

YouTube
https://youtube.com/@medialense

13/10/2026

گلگت بلتستان کے دور دراز علاقوں کے اسکولوں میں میل پروگرام شروع کرنے پر غور

گلگت: وزیراعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین نے کہا ہے کہ صوبے کے دور دراز علاقوں میں بچوں میں غذائی قلت اور نشوونما کی کمی (Stunting) کے مسئلے پر قابو پانے کے لیے اسکولوں میں میل پروگرام شروع کرنے پر غور کیا جا رہا ہے، جس کے لیے یونیسف کا تعاون درکار ہے۔

یہ بات انہوں نے یو این ریذیڈنٹ کوآرڈینیٹر اور کنٹری ڈائریکٹر یونیسف پاکستان پرنیل آئرن سائیڈ سے ملاقات کے دوران کہی۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ صوبائی حکومت محدود وسائل کے باوجود بچوں کو درپیش غذائی قلت، خواتین کی فلاح و بہبود اور صحت سمیت سماجی شعبوں کی بہتری کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے بچوں اور خواتین میں غذائیت کی کمی دور کرنے، اسپتالوں کو شمسی توانائی پر منتقل کرنے اور ویکسینیشن کے شعبے میں یونیسف سے مزید تعاون کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

امجد حسین نے کہا کہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد صوبائی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے تاکہ عوام کو ان کی دہلیز پر بنیادی سہولیات فراہم کی جا سکیں اور مقامی سطح پر مسائل حل ہوں۔

انہوں نے موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث گلگت بلتستان کے گلیشیئرز کو لاحق خطرات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کے تحفظ کے لیے گلیشیئر پروٹیکشن اتھارٹی قائم کی گئی ہے، جبکہ گلیشیئرز کی نگرانی اور حفاظت کے لیے بھی تعاون درکار ہے۔

اس موقع پر پرنیل آئرن سائیڈ نے کہا کہ یونیسف گلگت بلتستان میں صحت، تعلیم، بچوں کی نشوونما میں کمی اور خواتین میں غذائی قلت کے مسائل کے حل کے لیے ہر ممکن تعاون کرے گا۔

انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان میں سیاحت اور معدنیات کے شعبوں میں وسیع مواقع موجود ہیں اور یہاں کے عوام مہمان نواز ہیں۔

ملاقات میں صوبائی وزرائے جنگلات و منصوبہ بندی، متعلقہ محکموں کے سیکریٹریز اور دیگر اعلیٰ حکام بھی شریک تھے۔

13/10/2026

وزیراعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین سے یو این ریذیڈنٹ کوآرڈینٹر اینڈ کنٹری ڈائریکٹر یونیسف پاکستان پرنیل آئرن سائیڈنے ملاقات کی۔ اس موقع پر وزیر اعلیٰ نے مختلف شعبوں میں یونیسف کے تعاون سے شکریہ اد اکرتے ہوئے کہاکہ صوبائی حکومت محدود وسائل کے باوجود بچوں کو درپیش سٹنٹڈنگ (Stunting)کے چیلنجز اور خواتین کی فلاح و بہبود سمیت صحت اور سوشل سیکٹر کے شعبے کی بہتری کیلئے بھرپور اقدامات کررہی ہے۔ صوبے کے دور دراز علاقوں میں بچوں کو درپیش سٹنٹڈنگ (Stunting) کے مسئلے کو مدنظر رکھتے ہوئے دور دراز علاقوں کے سکولوں میں میل پروگرام شروع کرنے پر غور کیا جارہاہے جس کیلئے یونیسف کا تعاون درکار ہے۔ بلدیاتی انتخابات صوبائی حکومت کی ترجیح ہے تاکہ عوام کی دہلیز پر ان کو بنیادی سہولیات میسر ہو اور ان کے مسائل حل ہوسکے۔ خواتین اور بچوں میں نیوٹریشن کی کمی دور کرنے پر بھی توجہ دی جارہی ہے۔ وزیر اعلیٰ نے کہاکہ ہسپتالوں کی سولرائزیشن اور ویکسینیشن کے حوالے سے بھی یونیسف کا مزید تعاون درکار ہے۔ گلگت بلتستان گلیشیرز کا مرکز ہے، موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے گلیشیرز متاثر ہورہے ہیں جن کی تحفظ کیلئے گلیشیرز پروٹیکشن اتھارٹی کا قیام عمل میں لایا گیا ہے۔ گلیشیرز کی مانیٹرنگ اور تحفظ کیلئے تعاون درکار ہوگا۔ یو این ریذیڈنٹ کوآرڈینٹر اینڈ کنٹری ڈائریکٹر یونیسف پاکستان پرنیل آئرن سائیڈنے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ گلگت بلتستان میں صحت، تعلیم، بچوں میں پائی جانے والی سٹنٹڈنگ (Stunting)کے مسائل کو حل کرنے اور خواتین مید غذائی قلت کے مسئلے کو دور کرنے کیلئے یونیسف ہر ممکن تعاون کرے گا۔ گلگت بلتستان میں سیاحت اور معدنیات کے حوالے سے وسیع مواقع موجود ہیں۔ گلگت بلتستان کے عوام مہمان نواز ہیں۔اس موقع پر صوبائی وزیر جنگلات، صوبائی وزیر پلاننگ، صوبائی سیکریٹری جنگلات، صوبائی سیکریٹری سوشل ویلفیئر، سیکریٹری برائے وزیر اعلیٰ، سیکریٹری سکول ایجوکیشن، سیکریٹری صحت سمیت متعلقہ آفیسران شریک تھے۔

13/10/2026

گلگت: وزیراعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین نے صوبائی سیکریٹری زراعت، لائیو سٹاک اور فشریز عثمان احمد کی جانب سے پارلیمانی کمیٹی کو مجوزہ زرعی پالیسی کے حوالے سے دیئے جانے والے بریفنگ کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت گلگت بلتستان کو زرعی شعبے میں خود کفیل بنانے اور مقامی کسانوں اور زمینداروں کیلئے سہولیات اور بہتر مواقع فراہم کرنے کیلئے اقدامات کررہی ہے، جس کے تحت پہلی مرتبہ گلگت بلتستان کے زرعی شعبے کیلئے 500 ملین کی خطیر رقم بلاک ایلوکیشن سے مختص کئے گئے ہیں۔ مقامی زمینداروں کو سبسڈائزڈ گندم کے معیار اور سرٹیفائیڈ بیچ فراہم کرنے کیلئے بھی خصوصی رقم مختص کی گئی ہے۔ حکومت کی ترجیح مقامی کسانوں اور زمینداروں کو بہتر مواقع فراہم کرنا، جدید مشینری اور معلومات فراہم کرنا ہے تاکہ زراعت کو جدید خطوط کے مطابق بہتر بنایا جاسکے، جس سے مقامی زمینداروں کی معیشت میں بہتری آئے گی۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ دیہی سطح پر کسانوں کی تنظیموں کو منظم کیا جائے تاکہ گاؤں کی سطح پر معاشی سرگرمیاں فروغ دی جاسکے۔کسانو ں کیلئے کسان کارڈ متعارف کرایا جائے۔ ریجن سطح پر معیاری ادویات، بیچ اور مشینری کی دستیابی کیلئے پرائیویٹ سیکٹر کے تعاون سے ایگری مالز کا قیام عمل میں لایا جائے۔ محکمے میں موجود ہیچریز کو مکمل بنایا جائے۔ فشریز کے سیکٹر میں جدید لیب متعارف کرایا جائے۔ وزیر اعلیٰ نے صوبائی سیکریٹری زراعت کو ہدایت کی کہ ترجیحی بنیادوں پر ماڈرن ہیچریز کا قیام عمل میں لایا جائے۔ اجلاس میں محکمے کی جانب سے پیش کی جانے والی مجوزہ زرعی پالیسی کو سراہتے ہوئے آئندہ کابینہ اجلاس میں پیش کرنے کی ہدایت کی تاکہ جلد اس پالیسی کو عملی جامعہ پہنایا جاسکے جس سے گلگت بلتستان زراعت، لائیوسٹاک اور فشریز کے شعبے میں خودکفالت کی منزل کی طرف گامزن ہوسکے۔

Address


Street 1, Shahra-e-Quaid Azam, Near Agriculture Bank, Jutial
Gilgit
15100

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Media Lens posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Subscribe

We will notify you when anything happens in Gilgit.